دہشت گرد اور دہشت گرد تنظیموں کی حمایت کرنے والے افرادو ممالک پر سخت کارروائی ہو:راجناتھ کا لوک سبھا میں بیان
نئی دہلی، 5؍اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا )جنوبی ایشیا میں امن اور خوشحالی کے لیے دہشت گردی کو سب سے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے ہندوستان نے سارک ممالک سے دہشت گردوں اور دہشت گرد تنظیموں سمیت ان کی حمایت کرنے والے افراد، اداروں اور ممالک کے خلاف سخت کارروائی کرنے اور پاکستان سے مجرمانہ معاملوں پر باہمی تعاون سے متعلق سارک معاہدے کو فوری طور پرمنظوری کرانے کوکہا۔پاکستان کا نام لیے بغیر ہندوستان نے سارک ممالک سے کہا ہے کہ دہشت گردی کی حوصلہ افزائی اوراس کو تحفظ دینابندکیاجاناچاہیے اور ایک ملک کا دہشت گرد کسی کے لیے شہید یا مجاہد آزادی نہیں ہو سکتا۔وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے پاکستان کے دورے کے بعد آج لوک سبھا میں دئیے بیان میں کہا کہ انہوں نے سارک ممالک کے وزاء داخلہ کے کل اسلام آباد میں ہوئے اجلاس میں ہندوستان کی جانب سے کہا کہ دہشت گردوں پر عالمی برادری کی رضامندی سے لگائی گئی پابندی کا احترام کیا جائے اوراچھی اور بری دہشت گردی میں تمیز کرنے کی غلطی نہ کی جائے۔انہوں نے یہ بھی کہاکہ دہشت گردی کو فروغ یا حمایت دینے والی حکومت سے الگ سبھی فریقوں کے خلاف مؤثر اقدامات اٹھائے جانے چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہونی چاہیے اور ان کی حوالگی کو یقینی بنایا جانا چاہیے تاکہ وہ قانونی گرفت سے بچ نہ پائیں۔راج ناتھ نے کہاکہ دہشت گردی کو فروغ نہ مل سکے ، اس مقصد سے میں نے کہا کہ ضروری ہے کہ نہ صرف دہشت گردوں اور دہشت گرد تنظیموں کے خلاف بلکہ ان کو حمایت دینے والے افراد، اداروں، تنظیموں اور ملکوں کے خلاف بھی سخت سے سخت قدم اٹھایا جانا چاہیے ۔دہشت گردی کی حیوانیت سے تبھی نمٹا جا سکتا ہے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ مجرمانہ معاملوں پر باہمی تعاون سے متعلق سارک سمجھوتہ کو ان ممالک کی طرف سے منظور کیا جانا چاہیے کہ جنہوں نے ابھی تک اس کو منظوری نہیں دی ہے ۔ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ سارک دہشت گرد جرم نگرانی ڈیسک(ایس ٹی او ایم ڈی)اور سارک منشیات جرم نگرانی ڈیسک(ایس ڈی او ایم ڈی )کو ان ممالک کی رضامندی کی ضرورت ہے جنہوں نے ابھی تک اس پر اپنی رضامندی نہیں دی ہے۔
راج ناتھ نے کہاکہ جہاں تک ہمارے پڑوسی ملک پاکستان کا سوال ہے میں معزز اراکین کو بتانا چاہوں گا کہ مجرمانہ معاملات پر باہمی مدد کے لیے سارک سمجھوتہ کو اس نے ابھی تک منظور نہیں کیا ہے۔ایس ٹی او ایم ڈی اور ایس ڈی او ایم ڈی کے لیے بھی ان کی رضامندی اب باقی ہے۔پاکستان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ اس سمت میں جلد ہی کارروائی کرے گا اور میں امید کرتا ہوں کہ یہ فوری واقعی میں فوری ہو گا ۔سارک کے وزراء داخلہ کے اجلاس کا ذکر کرتے ہوئے راج ناتھ نے اپنے بیان میں کہاکہ ہندوستان کی طرف سے میں نے دہشت گردی پر خصوصی زوردیا اور مجھے یقین ہے کہ اس ایوان کے تمام اراکین اس بات سے متفق ہوں گے کیونکہ جنوبی ایشیا میں امن اور خوشحالی کے لیے سب سے بڑا چیلنج اور سب سے بڑا خطرہ بھی دہشت گردی ہے۔میں نے اس لعنت کو جڑ سمیت اکھاڑ پھینکنے کے لیے پختہ عزم کرنے کی اپیل کی ۔انہوں نے کہاکہ جنوبی ایشیا ئی خطے سمیت پوری دنیا میں دہشت گردی کے گہرے بادل منڈلا رہے ہیں۔پوری عالمی برادری اس سنگین خطرے سے بے حد فکر مند ہے، ایسا سب جانتے ہیں۔یہ اس بات سے بھی ظاہرہے کہ اس انسانیت مخالف خطرے پر اپنا واضح پیغام تو دیاہی ہے ،ساتھ تقریبا سبھی ممبر ملکوں نے بھی اس حیوانیت پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ۔وزیرداخلہ نے کہا کہ میں اس بات پر زوردینا چاہتاہوں کہ ہندوستان کا یہ پیغام انسانیت کی خاطر اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ہے اور بنیادی طورپر دہشت گردی ہی انسانی حقوق کی سب سے بڑی دشمن ہے ۔